ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جھوٹ کا پٹارہ ہے مودی سرکار۔ بی کے ہری پرساد کا بیان

جھوٹ کا پٹارہ ہے مودی سرکار۔ بی کے ہری پرساد کا بیان

Mon, 07 May 2018 21:41:41    S.O. News Service

کاروار 7؍مئی (ایس او نیوز) عوام کے سامنے جھوٹے وعدوں کا پٹارہ کھول کر اقتدار پرآنے والی مودی سرکار نے عوام سے کیا گیا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ معدنی ذخائر لوٹنے والے ریڈی برادران کو اپنے ہی گھر میں پناہ دے کر کانگریس کی طرف انگلی اٹھانے والوں پر عوام بھروسہ او راعتماد نہیں کریں گے۔ان خیالات کا اظہار راجیہ سبھا کے رکن اور کانگریسی لیڈر بی کے ہری پرساد نے ضلع پریس کلب میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا۔

ہری پرساد نے کہا کہ مودی کے اقتدارپر آنے کے بعدملک کے سرحدی علاقے میں بہت زیادہ بدامنی پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کی طرف سے سرحدی علاقے میں 800 سے زائد حملے ہوئے ہیں۔اس کے باوجود مودی نے نواز شریف کی نواسی کے جنم دن تقریب میں شرکت کی تھی۔دیش کے فوجیوں کا قتل کرنے والوں کو سبق سکھانے کے بجائے انہیں کے ساتھ بیٹھ کر موج کرتے ہیں۔کانگریس پر بدعنوانی کا الزام لگانے والے مودی خود اپنی پارٹی کے اندر8ریڈی برادران کو سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ہری پرساد کا کہناتھا کہ بی جے پی ہر معاملے میں دوغلی پالیسی اپنارہی ہے۔ مہادائی آبی مسئلے پر بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔لیکن جھوٹا الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ آبی مسئلے پر کانگریس سیاست کررہی ہے۔ عوام یہ سارا کھیل دیکھ رہے اور انتخاب میں بی جے پی کو اچھا سبق سکھائیں گے۔

ہری پرساد نے مزید کہا کہ ہندوتوا کے نام پر مذہبی سیاست کرنے والی بی جے پی کو ووٹرس کنارے کردیں گے اور ضلع کے تمام چھ حلقوں میں بھی کانگریس کی جیت کا پرچم لہرائے گا۔

بی جے پی اراکین اسمبلی سے بیٹی بچاؤ:اسی طرح کمٹہ بلاک کانگریس دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بی کے ہری پرساد نے کہا کہ ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ اسکیم جاری کرنے والی بی جے پی سے ہی ’بیٹی بچاؤ‘ کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اترپردیش کے ایک رکن اسمبلی پر ہی جنسی ہراسانی کا کیس درج ہوا ہے۔لہٰذا کانگریس پارٹی کے برسراقتدار آنے پر ہی تمام طبقات امن وسکون سے زندگی گزارسکیں گے۔

انہوں نے ریاستی حکومت کے تعلق سے کہا کہ دیش کی کسی بھی دوسری ریاست میں اتنی ساری عوامی فلاح و بہبود کی اسکیمیں جاری نہیں کی گئی ہیں جیسی کہ کرناٹکا میں کانگریسی حکومت کے تحت جاری ہوئی ہیں۔ اس لئے اس مرتبہ کرناٹکا کے انتخابی نتائج پر دیس اور پردیس کے لوگ نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔دیش کے مرکزی فنڈ کو ٹیکس کی ادائیگی کے سلسلے میں کرناٹکا تیسرے نمبر پر ہے جبکہ گجرات چوتھے نمبر پر ہے۔ اس لیے کرناٹکاکو ایک ماڈل اسٹیٹ کی شکل دینے میں کانگریس پارٹی کامیاب ہوئی ہے۔

ملک کا دستور بدلنے کے اننت کمار ہیگڈے کے بیان کے تعلق سے ہری پرساد نے کہا کہ ایک جمہوریت مخالف فعل ہے۔عوام کو چاہیے کہ ایسی سوچ رکھنے والوں کو سبق سکھائیں۔


Share: